ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مینگلورو میں بھینسوں کی دوڑ”کمبلا“ کی حمایت میں سینکڑوں طلبہ سمیت فلم ایکٹرس اور سیاستدانوں نے نکالی ریلی؛ ہمپن کٹہ میں انسانی زنجیر

مینگلورو میں بھینسوں کی دوڑ”کمبلا“ کی حمایت میں سینکڑوں طلبہ سمیت فلم ایکٹرس اور سیاستدانوں نے نکالی ریلی؛ ہمپن کٹہ میں انسانی زنجیر

Fri, 27 Jan 2017 22:06:20    S.O. News Service

مینگلور27جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) ساحلی کرناٹک کے شہر منگلور میں کمبلاکے انعقادکی مانگ کو لے کر جمعہ کو کئی جگہوں پر ریلیاں نکالی گئیں۔جس میں سینکڑوںطالب علموں نے بھی جم کر حصہ لیا۔ان کا مطالبہ ہے کہ کمبلا پر سے پابندی ہٹا دی جائے۔ آل کالج اسٹوڈینٹس اسوسی ایشن سمیت تلو فلم کے فنکاروں، یکشگانا فنکاروں ، سیاست دانوں اور تلو ناڈو رکشھنا ویدیکے کے ممبران نے اس احتجاج میں کثیر تعداد میں حصہ لیتے ہوئے کمبلا پر لگی پابندی کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ احتجاجیوں نے شہر کے ہمپن کٹہ میں جمع ہوکر بین پیٹا ۔  سیو کمبلا ، پاس آرڈی نینس ، سیو کمبلا سمیت کافی تختیاں ہاتھ میں اُٹھا رکھی تھیں۔

احتجاجیوں میں سینکڑوں عوام کے ساتھ ساتھ فلم ایکٹرس دیوداس کاپیکڑ، نوین ڈی پاڈیل، بھوجاراج ومنجور، ڈائرکٹر پروڈیوسر وجئے کمار کوڈیل بیل، رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل، ایم ایل اے محی الدین باوا، جگدیش شیناوا، شرن پمپویل، ستیہ جیت سورتکل ، چیتن رائی اور دیگر کافی لیڈرس موجود تھے۔

یہاں ہمپن کٹہ میں کے پی ٹی ، کینرا کالج، مینگلور یونیورسٹی کالج اور دیگر طلبہ نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر انسانی زنجیر بھی بنائی۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکن اسمبلی محی الدین باوا نے کہا کہ کمبالا یہاں کا روایتی کھیل ہے اور ضلع کے عوام اس کھیل سے جُڑے ہوئے ہیں۔ اس کھیل میں بلامذہب و ملت اور کسی بھی قسم کے ذات پات کا بھید بھائو کئے بغیر یہاں کے لوگ اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں، اس لئے ہم اس کھیل پر سے پابندی ہٹانے کے لئے  آخری سانس تک لڑیں گے۔

بی جے پی رکن پارلیمان نلین کمار کٹیل نے کہا کہ کمبلا کی 800 سالہ تاریخ ہے اور یہ کھیل تلو ناڈو کے مذہب کا بھی ایک حصہ ہے اور اس کی تہذیب میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹا نے کمبلا کے تعلق سے غلط بیانی کی ہے کہ ہم جانوروں کو  تکلیف دے کر اُسے دوڑاتے ہیں، حالانکہ ہم بھینسوں کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں اور اپنی فیملی کے ممبر کی طرح اس کی عزت کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے تمل ناڈو میں سانڈوں کی دوڑ جلی کٹوپرپابندی لگائی تو کرناٹک ہائی کورٹ نے جانوروں کے مفادات کی حفاظت سے وابستہ تنظیموں کی درخواست پرسماعت کرتے ہوئے 2014میں کمبلا پر پابندی لگا دی تھی۔اب تمل ناڈو میں جلی کٹو کے انعقاد کو منظوری مل گئی ہے توکرناٹک میں بھی کمبلا کو لے کر کنڑا تنظیمیں فعال ہو گئی ہیں۔واٹل ناگراج جو کنڑا تنظیموں کے سب سے قدآور لیڈر ہے، ان کاکہنا ہے کہ اگر حکومت نے کمبلا کے انعقاد کے راستے میں آ رہی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی، تو وہ کرناٹک میں بندبلائیں گے۔وہیں بنگلور میں ان تنظیموں نے اتوار کو کمبلا کی حمایت میں ریلی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ ریلی شہر کے فریڈم پارک میں ہوگی۔وہیں ہفتہ کو منگلور میں بھی ایسی ہی ایک ریلی کا انعقاد ہونے جا رہا ہے۔اگلے سال کرناٹک میں اسمبلی انتخابات ہیں۔ایسے میں وزیر اعلی سدارمیاکافی دباؤ میں ہیں۔انہوں نے جمعہ کو بنگلور میں کہا کہ کمبلا دیہی علاقوں میں کافی مقبول کھیل ہے، ایسے میں ہم اس کے حق میں ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ہم قانون بھی بنائیں گے۔کرناٹک ہائی کورٹ میں اس معاملے پر پیر کو سماعت ہے جس میں فیصلے کی بھی امید کی جا رہی ہے۔یہ دیکھنا ہوگا کہ ہائی کورٹ اس پر پابندی جاری رکھتا ہے یاپھرکچھ راحت فراہم کرتاہے۔
 


Share: